جنگل اور بندر تماشا کالم کہکشائوں سےڈاکٹر تصدق حسین ایڈووکیٹ

0
101

جنگل اور بندر تماشا
کہکشائوں سے
ڈاکٹر تصدق حسین ایڈووکیٹ

یہ ملک نہیں ایک جنگل ہے، یہاں عوام نہیں ریوڑ بستے ہیں، ہر ریوڑ کا ایک لیڈر ہے۔کسی نے مذہب اور سیاست کے نام پر دکان کھولی ہوئی ہے تو کسی نے قومیت کے نام پر مجمع لگایا ہوا ہے۔

بظاہر جنگل کا ایک قاعدہ دستور بھی ہے ۔جس کے مطابق بادشاہ سلامت کو متفقہ طور پر چنا جاتا ہے لیکن جنگل کا حقیقی اختیار فارسٹ گارڈ کے پاس ہے۔ جنگل میں وہی سرکار اور اسی کا بیوپار ہے۔ گارڈ صاحب کی مرضی شیر کو گرفتار کرائیں یا جنگل سے بھگائیں، بندر کو تخت پر بٹھائیں یا لومڑ سے انصآف دلوائیں،نہ کوئی روک سکتا ہے نہ کوئی پوچھ سکتا ہے۔

گزشتہ کچھ عرصے سے گارڈز نے جنگل میں بندر تماشا لگایا ہوا ہے۔ بندر کے ہاتھ میں چابک اور دوسرے میں ماچس ہے۔بندر کی مرضی کھڑی فصل کو آگ لگا دے یا پکے پھولوں کو دریا برد کرادے، کوئی پوچھنے والا نہیں۔کیونکہ بندر کو ناصرف گارڈ نے تخت پر بٹھایا ہوا بلکہ چابک اور ماچس بھی اسی کا تھمایا ہوا ہے۔

جنتا بہت مشکل میں ہے، جنگل کی چالیس فیصد آبادی ایک وقت کے کھانے کے لئے ترس رہی ہے۔ ایسے میں اگر کوئی بندر اور گارڈز کے خلاف شکایت کرے تو ہر ریوڑ کا لیڈر درمیان میں آ جاتا ہے وہ اپنے اپنے ریوڑ کو تسلی دیتا ہے کہ آپ ذرا صبر کریں” میں ابھی جاکر بندر کی کلاس لیتا ہوں”۔

جنتا انتظار کرتی ہے، لیڈر جب آگے بڑھتا ہے تو بندر اسے ایک چابک رسید کرتاہے، لیڈر ایک چیخ نکالتا ہے اور پھر شکایت بھری نظروں سے گارڈز کی طرف دیکھتا ہے۔گارڈ زیر لب مسکرا کر اسے تسلی دیتا ہے اور پھر بندر کو بلاکر کہتا ہے کہ بچہ جمورا آرام سے یہ بھی اپنے بچے ہیں۔

لیڈر خوش ہوتا ہوا اپنی جنتا کو خوشخبری سناتا ہے کہ میری گارڈ سے بات ہوگئی ہے وہ بندر سے جان چھڑا دے گا۔
اس خوشی میں لیڈر آکر گارڈ کی وردی کو ٹھیک کرتا ہے۔اس کے بوٹوں کو چمکاتا ہے جو بندر کے اچھل کود کی وجہ سے گندے ہوچکے ہوتے ہیں۔لیڈر دل میں مسرور ہوتا ہے اسے تسلی ہوتی ہے کہ گارڈ ابھی بندر سے چابک چھین کر اسے تخت سے نیچے اتار دے گا۔

ریوڑ میں بھی جشن ہے کہ ہمارے لیڈر کی کامیاب حکمت عملی کی وجہ اب بندر تماشا ختم ہونے والا ہے ایسے میں گارڈ شرارتی آنکھوں سے بندر کو اشارہ کرتا ہے اور وہ لیڈر کو چابک رسید کرکے جنگل میں رفو چکر ہوجاتا ہے،دو چار فصلیں تباہ کرکے پھر سامنے آجاتاہے۔ریوڑ میں گارڈ کے خلاف دبی دبی آوازیں اٹھنے لگتی ہیں۔لیڈر یہ سرگوشیاں سن کر فوراً ایکشن لیتا ہے۔ ریوڑ کو ڈانٹنے لگتا ہے کہ آپ لوگوں کی بد تمیزی کی وجہ سے گارڈ ناراض ہے۔ وہ بندر کو اتار نہیں رہا۔

ریوڑ خاموش ہو جاتا ہے، گارڈ لیڈر کو انگلی کے اشارے سے اپنی پاس بلاتا ہے لیڈر خوشی خوشی جاکر ہاتھ چومتا ہے اس کے بوٹ چمکاتا ہے اور پھر قدموں میں بیٹھ کر انتظار کرنے لگتا ہے۔کافی دیر تک خاموشی ہوتی ہے۔ اچانک بندر آکر پھر اسے ایک چابک رسید کرتا ہے۔ لیڈر بندر کے خلاف خاموش احتجاج کرتا ہےجبکہ دوسری جانب ریوڑ کو امید ہے کہ اس کا لیڈر آج نہیں تو کل ایک اچھی خبر لے کر آئےگا۔

پون صدی سے جنگل میں یہ کھیل جاری ہے۔اس دوران لیڈر بدلے، گارڈ بدلے اور بندر بھی نت نئے آئے لیکن کھیل اسی طرح جاری ہے۔

ریوڑ کو آج تک یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ جب تک گارڈ ہے اس وقت تک بندر ہے اور جب تک لیڈر ہے اس وقت تک گارڈ کی بدمعاشی قائم ہے۔

اگر بندر تماشا ختم کرنا ہے تو گارڈ سے اختیار چھیننا ہوگا اور اگر گارڈ کو بے اختیار کرنا ہے تو گارڈ کے قدموں میں پڑے لیڈر سے جان چھڑانی ہوگی۔

یہی اس جنگل کی کل داستان ہے۔
اب ریوڑ کی مرضی اپنے اپنے لیڈر سے جان چھڑائیں یا ان کے بزدلانہ طرزِ عمل اور رنڈی رونا کا دفاع کریں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں