عنوان: سنہ 2023 کے بعد کی دنیا کالم جاوید صدیقی ٹائٹل: بیدار ھونے تک

0
655

جاوید صدیقی عنوان: سنہ 2023 کے بعد کی دنیا ٹائٹل: بیدار ھونے تک

‏خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کے بعد مسلم ریاستوں کی تقسیم ہوئیں یاد رہے کہ خلافت عثمانیہ کے خاتمہ کے بعد کئی مسلم ریاستوں کو جنم دیا گیا اور نئے مسلمان حکمرانوں سے معاہدوں پر جبراً منظوری لی گئی تھی جن میں عرب علاقوں کی نئی ریاستوں، سعودی عرب، یو اے⁦ ای، قطر، کویت، بحرین، عمان، اردن، عراق، شام اور مصر پر ‏امریکہ اور برطانیہ کا کنٹرول رہا۔ الجیریا، مراکو، تیونس، موریشش پر فرانس کا قبضہ رہا جبکہ شمالی ایشیائی ریاستیں روس کے حوالے کر دی گئیں تھیں ۔۔۔۔ معزز قارئین!! یہ عرصہ مسلمان ریاستی عوام کیلئے بڑی تکالیف اور ذلت آمیز دور رہا تھا۔ سنہ انیس سو نوے میں روس، افغانستان کی جنگ میں معاشی طور پر کمزور ہوا اور اس کے ‏زیرِ تسلط تمام مسلمان ریاستیں آزاد ہوئیں۔۔۔معزز قارئین!! امریکہ نے بیس سال تک افغانستان پر فوج کشی کی اور اپنے اتحادیوں سمیت سنہ دو ہزار بیس میں شکست کھا کر بھاگنا پڑا جس سے امریکہ کی سیاسی و معاشی ساکھ متاثر ہوئی۔ ذرائع کے مطابق سعودی عرب، کویت، بحرین اور عمان کے وزراء خارجہ نے چین کے وزیر خارجہ ‏سے ملاقات میں چین کو تیل اور گیس کی سپلائی دینے کا عندیہ دیا ہے اور چائنا نے سعودی عرب کی دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کا وعدہ کیا ہے جبکہ ترکی اور ایران کے وزرائے خارجہ بھی چین میں ہیں۔ چین ایران کو باور کرا رہا ہے کہ وہ ایران میں انویسٹمنٹ کریگا۔ ایران کو سعودیہ سے اختلافات ‏ختم کر دینے چاہئیں۔ یہ تمام باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ امریکہ سے مسلم ریاستوں کا کنٹرول ختم ہوتا جارہا ہے اور چین ایک نئی طاقت بن کر ابھر رہا ہے۔ بین الاقوامی سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان مسلم امہ کے اتحاد کیلئے خاموشی سے آگے بڑھ رہا ہے جو بادی النظر میں درست لگتا ہے۔۔۔معزز قارئین!! اب ذرا ہم تاریخ کے ان اوراق کو پلٹتے ہیں جو سلطنتِ عثمانیہ کا خاتمہ اور معاہدہ طے کیا گیا۔ مصطفٰی کمال کی زیر قیادت ترک قومی تحریک نے تئیس اپریل سنہ انیس سو بیس عیسوی کو انقرہ میں “مجلس کبیر ملی” ترک زبان: بیوک ملت مجلسی کے قیام کا اعلان کیا، جس نے استنبول میں عثمانی حکومت اور ترکی میں بیرونی قبضے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ ترک انقلابیوں نے عوامی فوج کے ذریعے یونان، اٹلی اور فرانس کی افواج کو اناطولیہ سے نکال باہر کیا۔ معاہدہ سیورے کے نتیجے میں جو علاقے جمہوریہ آرمینیا کو مل گئے تھے انہیں بھی دوبارہ حاصل کیا اور آبنائے پر قابض برطانوی افواج کیلئے خطرہ بن گئی۔ بالآخر ترک انقلابیوں نے آبنائے اور استنبول پر قبضہ کرلیا اور یکم نومبر سنہ انیس سو بائیس عیسوی کو سلطنتِ عثمانیہ کے خاتمے کا اعلان کردیا۔ آخری سلطان محمد ششم وحید الدین “سنہ اٹھارہ سو اکسٹھ تا سنہ انیس سو چھبیس عیسوی” سترہ نومبر سنہ انیس سو بائیس عیسوی کو ملک چھوڑ گئے اور معاہدہ لوزان کے تحت چوبیس جولائی سنہ انیس سو تیئس عیسوی کو باضابطہ طور پر ترک جمہوریہ کو تسلیم کر لیا گیا۔ چند ماہ بعد تین مارچ سنہ انیس سو چوبیس عیسوی کو خلافت کےخاتمے کا اعلان کردیا گیا اور سلطان اور ان کے اہل خانہ کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر جلاوطن کردیا گیا۔
پچاس سال بعد سنہ انیس سو چوہتر عیسوی میں ترک پارلیمان نے سابق شاہی خاندان کو ترک شہریت عطا کرتے ہوئے وطن واپسی کی اجازت دے دی تھی۔ خلافتِ عثمانیہ کا خاتمہ کے اسباب میں یہ بھی تھا کہ ترک انقلابیوں نے آبنائے اور استنبول پر قبضہ کرلیا اور یکم نومبر سنہ انیس سو بائیس عیسوی کو سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کا اعلان کردیا۔ آخری سلطان محمد ششم وحید الدین جو سنہ اٹھارہ سو اکسٹھ تا سنہ انیس سو چھبیس عیسوی تک رہے جو سترہ نومبر سنہ انیس سو بائیس عیسوی کو ملک چھوڑ گئے اور معاہدہ لوزان کے تحت چوبیس جولائی سنہ انیس سو تئیس عیسوی کو باضابطہ طور پر ترک جمہوریہ کو تسلیم کر لیا گیا۔۔۔۔ معزز قارئین!! معاہدہ لوزان کی معیاد تیئس جولائی سنہ دو ہزار تئیس کو مکمل ہورہی ھے اور اس سو سالہ معاہدے کے اختتام پر یقیناً جہاں مسلم ممالک میں تغیرات و کشمکش کی فضاء قائم ھوگی وہیں اسرائیل امریکہ اور دیگر غیر مسلم قوتیں اپنی اپنی سازشوں کے سلسلے بن چکے ہونگے ۔۔۔۔ معزز قارئین!! موجودہ دور میں ستاون اسلامی ریاستوں میں پاکستان واحد ملک ھے جو ایٹمی طاقت کا حامل ھے یہاں کی بہترین افواج اور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اور مارخور اپنے وطن عزیز پاکستان کی سالمیت کیلئے جس قدر چاک و چوبند رہتی ھے اسی قدر دیگر تمام مسلم ریاستوں کی خوشحالی و امن کیلئے بھی سرکوشاں سرگرم اور متحرک رہتی ھے۔ ۔۔۔ معزز قارئین!! ایک جانب پاکستان انتخابات کے بھنور میں پھنسا ھوگا تو دوسری جانب یہودی زائنست امریکہ اور نیٹو سمیت ایکبار پھر اسلامی ریاستوں پر دھاوا بولیں گے اور ان میں شیرازہ بکھیرنے کیلئے بڑے پیمانے پر سہولتکاری کو فروغ دیں گے اور غداروں کے ذریعے اسلامی شعائر اسلامی تہذیب و تمدن اسلامی اخلاقیات اور ایمانی طاقت کو زائل کرنے کیلئے ہر حربے استعمال کرنے شروع کردیئے ہیں۔ ہم اور ہماری قوم کو چاہئے کہ آنے والے وقت کیلئے مکمل ذہنی و جسمانی طور پر تیار رہیں یاد رکھیئے ستر سال سے نام نہاد جمہوریت اور جمہوری علمبرداروں نے جس قدر پاکستان کو نقصان پہنچایا اور عوام الناس کی زندگیاں اجیرن بنائیں ہیں تاریخ کے اوراق بھرے پڑے ہیں۔ ہماری افواج اور خفیہ اداروں نے جس قدر دوہری بلکہ کئی گنا اضافی ذمداریوں سے خوش اسلوبی کیساتھ سرانجام دیتے رہے ہیں۔۔۔ معزز قارئین!! اب بہت ہوگئی اس فرسودہ کرپٹ جمہوری نظام کا جاری رہنا فی الفور اس نظام کا خاتمہ نہ کیا گیا تو دنیا کے بدلتے حالات ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑیں گے یاد رکھیئے ان جمہوریت کے علمبرداروں نے اپنی چودہ سو نسلوں کیلئے اس قدر قومی خذانے کو نوچا ہے کہ آپ اور ہم اپنے وجود کو زخموں سے دیکھ بھی سکتے ہیں اور محسوس بھی کرسکتے ہیں ۔۔ معزز قارئین!! حالیہ دنوں میں ہم صدارتی نظام کی گونج سن رہے ہیں جو ہمارے لیئے ایک بار پھر دھوکے اور جھوٹ کی گراہ تیار کی جارہی ھیں حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان اور پاکستانی اسلامی نظام کے مطلوب ھیں جو خلافت اور خلیفہ کے خواں ھیں۔ جہاں عدل و انصاف بنا تفریق ھو یہ اسی وقت ممکن ہوسکتا ھے جب تک کہ موجودہ جمہوری نظام کی غلاظت کا جڑ سے خاتمہ ممکن ھو یہ مشکل تو ھے مگر نا ممکن نہیں۔ ریاست کے امین کی ذمہ داری ھے کہ وہ ریاست کی حفاظت و بقاء کیلئے تعصب لسانیت عصبیت مسلکی تفرقات سہولتکاروں اور منفی سیاست کا مکمل خاتمہ ناگزیر ہوچکا ھے۔ ہمارا فخر ہماری پہچان خلافتِ راشدہ کا نظام ھے۔ نظامِ خلافت جہاں خلیفہ ریاست حافظ عالم با عمل ھوتا ھے تفصیلات بہت ہیں مگر یہاں مختصراً یہ کہنا ھے کہ حقیقت میں وہ تمام اصول و ضوابط کو قائم رکھنا جو چاروں خلفاء راشدین نے اپنے دورِ اقتدار میں قرآن و سنت کے تحت رائج کیئے تھے۔ اللہ پاکستان کی ہمیشہ حفاظت فرمائے آمین ٹما آمین۔۔۔!!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں