کالم ڈاکٹر ساجد حسین جمہوریت میں چھپی آمریت

0
52

جمہوریت میں چھپی آمریت
لوح قلم
(تحریر:ڈاکٹر ساجد حسین)
خبرہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے اعلیٰ عدلیہ کے احکامات کے باوجود بلدیاتی ادارے بحال نہ کرنے کے خلاف درخواستوں پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو طلب کرلیا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عائشہ اے ملک نے سابق لارڈ میئر لاہور کرنل ریٹائرڈمبشر سمیت دیگربلدیاتی نمائندوں کی ایک ہی نوعیت کی درخواستوں پر سماعت کی جس میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ نے پنجاب میں بلدیاتی ادارے بحال کئے ہیں لیکن عدالتی احکامات پر عمل نہیں کیا جارہا۔عدالت نے پنجاب حکومت کے وکیل کے پیش نہ ہونے پر ناراضگی کااظہار بھی کیااورایڈووکیٹ جنرل کو پیش ہونے کاحکم دے دیا۔درخواست گزاروں کے وکلاءکے مطابق عدالتی احکامات پر بلدیاتی ادارے بحال کرنا حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے لیکن حکومت مسلسل ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔اس خبر کے بعد مختلف خدشات ذہن میں گردش کررہے ہیں۔مثال کے طور پربرسراقتدار حکومت شائد اس لئے مذکورہ معاملہ پر سردخانے میں لگی ہوئی ہے کہ زیادہ تر بلدیاتی نمائندے ان کی حریف جماعت مسلم لیگ(ن) سے منتخب شدہ ہیں، ہوسکتا ہے کہ معطل کئے گئے بلدیاتی نظام میں کچھ نقائص پائے جاتے ہوںیایہ بھی ممکن ہے کہ جمہور کی منتخب حکومت جمہور تک جمہوریت کے ثمرات اور اختیارات تفویض کرناہی نہ چاہتی ہو۔خیر یہ تو سب قیاس آرائیاں اور مفروضے ہی ہیںاصل حقیقت تو اللہ ہی جانے کیا ہے۔مگر ایک بات تو طے ہے کہ حکومت کی مبینہ عدم توجہی اور سردمہری کے باعث نچلی سطح کے عوام جمہوری نظام سے کوسوں دور نظر آرہے ہیں۔ اپنے چھوٹے چھوٹے کاموں اور مسائل کی خاطر ایم این ایز اور ایم پی ایز کے ڈیروں کے طواف کررہے ہیں۔ایک عام شہری کے لئے ان نام نہاد جمہوری نمائندوں کو ملنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہی سمجھا جاتا ہے۔جمہوریت کا صحیح رنگ اور حسن مضبوط بلدیاتی نظام میں ہی پنہاں ہے جس میں ملک کا ہرشہری اپنے ووٹ کی طاقت سے منتخب کروائے گئے بلدیاتی نمائندے کو مسائل کے حل کے لئے باآسانی مل سکتا ہے۔انگلش میں جسے Easy to approachکہا جاتا ہے والی بات اور یہ بھی روزروشن کی طرح عیاں ہے کہ جمہوریت کا بنیادی تصور انسانی مساوات ہے۔یعنی یہ اخلاقی اصول کہ تمام انسان رتبے اور حقوق کے اعتبار سے برابر ہیں۔جمہوریت ہمیشہ انصاف کاتقاضا کرتی ہے۔جمہوری نظام میں ہمیشہ پچھڑے ہوئے علاقوں،گروہوں اور طبقات کو ترقی کے دھارے میں شریک کرنے کی شعوری کوشش کی جاتی ہے اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب ایک موثر بلدیاتی نظام کا نفاذ عمل میں لایا جائے۔یہاں موثر اور مضبوط بلدیاتی نظام کا خواب دیکھنا یا کوشش کرنا تو درکنار پہلے سے موجود بلدیاتی ادارے بھی اعلیٰ عدلیہ کے حکم کے باوجود بحالی کے منتظر نظر آتے ہیں۔وزیراعظم سے لیکر صوبائی وزراءتک آئے روز سب اپنی تقریروں میں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کی دہائی دیتے ہیں مگر عملی اقدامات تاحال عوام کی نظروں سے اوجھل ہیں۔کچھ روزقبل صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی صاحب نے بھی یہ بیان دیا تھا کہ بلدیاتی نظام سے ہی جموریت کا استحکام ممکن ہے۔انہوں نے صوبائی حکومتوں پر بھی زور دیا کہ وہ بلدیاتی حکومتوں سے متعلق اپنی ذمہ داری فوراً پوری کریں۔ایک پائیدار بلدیاتی نظام سے ہی جموریت مضبوط ہونے کیساتھ ساتھ عوام کی نچلی سطح تک فلاح وبہبود میں مددملتی ہے مگر افسوس کہ نہ تو صوبائی حکومت نے معطل شدہ بلدیاتی نظام کو بحال کرنے میں اپنی آئینی ذمہ داری پوری کی او ر نہ ہی نئے بلدیاتی نظام کو تاحال کوئی عملی جامہ پہنایاجاسکا۔آخری بار2015ءمیں ہونیوالے بلدیاتی انتخابات میں مسلم لیگ(ن)نے پنجاب بھر میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی تھیں جب کہ آزاد حیثیت سے کامیاب ہونیوالوں کی اکثریت بھی مسلم لیگ(ن) میں شمولیت اختیار کرگئی تھی۔تاہم اسی لئے معطل شدہ بلدیاتی ادارے بحال کرنا موجودہ حکومت کے لئے کسی بھی صورت قابل قبول نظر نہیں آرہا۔کچھ ہفتے قبل کنٹونمنٹ بورڈ کے ہونیوالے انتخابات میں جو حشر تحریک انصاف کا پنجاب میں ہوا اسکے بعد تو حکومت نئے بلدیاتی انتخابات کروانے سے بھی راہ فرار اختیار کرتے ہوئے نظر آرہی ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ جمہوری اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے لئے بلدیاتی اداروں کو بحال کرنے کی آئینی ذمہ داری فوری طور پر پوری کی جائے اور دل بڑا کرتے ہوئے آمرانہ رویہ کو بالائے طاق رکھ کرنئے بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کروانے کے لئے عملی اقدامات کو بھی جاری رکھا جائے کیونکہ بلدیاتی ادارے ہی جمہوریت کی جان سمجھے جاتے ہیںجو کہ اختیارات کو گلی کوچوں اور محلوں تک تفویض کروانے میں کلیدی کردار اداکرتے ہیں۔ویسے بھی جمہوریت میں اقتداراعلیٰ عوام کی ملکیت ہوتا ہے،قانون کی نظر میں تمام شہریوں کی برابری قائم کئے بناءجموریت کا پودا کسی صورت بھی پروان نہیں چڑھ سکتا،تمام شہریوں کی بہتری ،حفاظت اور ترقی کو یقینی بناناجمہوریت کا حتمی مقصد ہے،جمہوری نظام میں تمام شہریوں کو براہ راست یامنتخب نمائندوں کے ذریعے نظام حکومت میں حصہ لینے کا مساوی حق حاصل ہوتاہے،جمہوریت میں مختلف اداروں اورذرائع کی مدد سے تمام شہریوں،علاقوں،طبقات اور گروہوں کی اقتدار میں بھرپور شرکت کو یقینی بنایاجاتا ہے۔ محروم علاقوں اور طبقات کی ترقی وخوشحالی اور نچلی سطح تک اختیارات کی منتقلی صرف اور صرف ایک اچھے اور پائیدار بلدیاتی نظام حکومت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں