عنوان:جناب آرمی چیف قمر جاوید باجوہ صاحب کے نام کھلا خط۔۔۔ بیدار ھونے تک!!کالمکار: جاوید صدیقی

0
101

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان:جناب آرمی چیف قمر جاوید باجوہ صاحب کے نام کھلا خط۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

آج کا کالم بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہے کیونکہ یہ کالم ہمارے ملک کے معتبر سپہ سالار جناب قمر جاوید باجوہ صاحب کے نام ہے اور امید کرتا ہوں کہ شائد ہمارے ملک کے وفادار جانثار فوجی افسران آپ تک یہ خط پہنچادیں گے۔ جناب قمر جاوید باجوہ صاحب نبی کریم ختم الرسل حضور کائنات محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے لیکر خلفائے راشدین اور بعد کی اسلامی ریاستوں کے پاسبان نگہبان سربراہان خدمتگاران سب کے سب سپہ سالار تھے آپ علیہ الصلواۃ و السلام خود ایک بہترین سپہ سالار رہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقشِ قدم پر خلفائے راشدین بھی بہترین سپہ سالار رہے۔ ہماری اسلامی تاریخ بھری پڑی ہے کہ جہاں جہاں بھی اسلامی ریاستوں کا وجود عمل میں آیا وہ جذبہ جہاد سے حاصل ہوا اور وہ ریاست فلاحی و بہبود پر محیط رہی۔ اسلام نے ہی ہمیں بہترین نظامِ ریاست عطا کی ہے جس میں منصب پر فائز ہونے والے جہاں الله کے حضور گریہ زاری کرتے تھکتے نہیں تھے وہیں وہ اپنی مسلم قوم کی خدمات میں سرشار تھے گویا انکا آرام و سکون خدمات میں ہی تھا یہی وجہ ہے کہ تین براعظموں پر حکومت کرنے والے حضرت عمر بن خطاب رضی الله تعالیٰ فرش پر بنا قالین و چادر ایک کھجور کی چٹائی اور اینٹ کو تکیہ بناکر مسجد نبوی میں سوجایا کرتے تھے۔ ان کی سادگی اور بھرپور ایمان کے سبب دنیا بھر میں عزت و وقار کے ساتھ ساتھ غضب کا رعب بھی تھا۔ اسلام کے دشمنوں کے دلوں پر خلفائے راشدین کا رعب و دبدبا ہمیشہ سے رہا جبکہ وہ عوام کیلئے انتہائی شفیق و نرم و عاجز تھے۔ جناب قمر جاوید باجوہ صاحب آپ اسلامی جمہوریہ پاکستان موجودہ ریاستِ مدینہ ثانی کے سپہ سالار ہیں اسی لیئے یہ خط آپ کے نام تحریر ہے۔جب جب مسلم سپہ سالاروں نے اسلامی نظام مطلب قرآن کا قانون نافذ کیا تب تب وہ دنیا پر حاکم رہے اور جب اسلامی نظام انھوں نے چھوڑا دشمن ان پر غالب رہے۔ سود، شراب اور زنا اسلامی ریاستوں کو تباہ کردیتی ہے کیا ہمارا ملک ان تینوں خباثت سے پاک ہے؟؟؟ دوسرا یہ کہ اسلامی ریاستوں کے حاکم ہر حال میں ہر صورت میں ہر کیفیت میں سچ بولتے تھے چاہے جان ہی کیوں نہ چلی جائے کیا ہمارے حکمران سچ گوئی سے کام لیتے ہیں؟؟؟ جناب قمر جاوید باجوہ صاحب آج کے حالات کس دوراہے سے گزر رہے ہیں اس کی ایک حقیقت آپکے سامنے پیش کرتا ہوں میرا دوست مجھے تحریر کیساتھ تصویر بھی بھیج کر کہتا ہے کہ کیا ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان موجودہ ریاستِ مدینہ ثانی میں رہتے ہیں یا غیر اسلامی غیر مدنی ریاست میں۔۔۔۔!! وہ لکھتا ہے کہ میں ابھی دودھ لینے گھر کے ساتھ والے مارٹ پہنچا تو مارٹ کے اندر جگہ جگہ “چوری نہ کر مانگ لے” لکھا نظر آیا، میں چونکہ روز ان سے خریداری کرتا ھوں اور سلام دعا بھی ھے تو ان سے پوچھ لیا کہ بھائی آج یہ ھر جگہ لکھ کے کیوں لگایا ھوا ھے، جواب ملا جناب آجکل چوری بہت بڑھ گئی ھے۔صبح ایک عورت کو پکڑا جو لیکٹوجن ون چھوٹے بچوں کا دودھ چھپا رھی تھی، جب ھم نے پوچھا تو رونے لگ گئی کہتی تین دن سے میرے بچے بھوکے ھیں کب تک خالی پانی پلا کے گزارہ کرتی، مہنگائی اتنی ھے گھر کا کرایہ دینے کے پیسے نہیں دودھ، سبزی، روٹی سب کیلئے کہاں سے لاوں، ماں ھوں نہیں دیکھ سکی ‏اس لئے مجبور ھو کر دودھ چرایا۔ یہ سنکر میری آنکھیں نم ہوگئیں دوکاندار نے بتایا جب سے مہنگائی میں اضافہ ھوا چوری بڑھ گئی ھے، کئی بار تو ھم نے لوگوں کو بسکٹ کا ایک پیکٹ یا آٹے کا ایک کلو والا تھیلا چراتے دیکھ کر جان بوجھ کے بھی اگنور کیا ھے۔ اکثر لوگ بھوک سے مجبور ھوکے کھانے پینے کی چیزیں چراتے ھیں، چوری کی معافی نہیں مگر کیا کریں جانتے ھیں بھوک تہذیب کے آداب بھلا دیتی ھے، ‏کہتے آج میں نے لکھ کے لگوا دیا جسے ضرورت ھے مانگ لے بس چوری ناں کرے۔۔۔۔۔۔، جناب قمر جاوید باجوہ یہ تو ایک چھوٹی سی حقیقت ہے یقیناً اس سے کہیں بڑھ کر حقیقتیں ابھی عیاں نہیں ہوئی ہیں اور خدارا نہ ہوں ممکن ہے وہ بہت زیادہ شرمندہ اور بھیانک ثابت ہوں۔ آپ کو خط لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ حکومت کو کہیں کہ ہوش کے ناخن لے براہ راست عوام کا جینا مشکل نہ بنائے اگر ملک سنبھالنا ہے تو سب سے پہلے ذخیرہ اندوزوں کو لٹکائے اور تمام املاک قبضہ کرکے قومی خذانے میں داخل کرتے ہوئے عوامی سہولیات میں استعمال میں لائے۔ غیر ضروری اور عیش و تعائش والی تمام درآمدات کو فی الفور بند کردیا جائے اور برآمدات کے بڑھاوے کیلئے ہر ممکن اقدامات کیئے جائیں اور صنعتوں کو جلا بخشا جائے۔ صنعتوں پر پولیس گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے تاکہ بھتے اور دیگر ڈیمانڈ کا تسلسل رک جائے یہ عمل اس لیئے ضروری ہے کہ پس پشت سیاسی فرمانروا پولیس کے ذریعے دلالی کا کام لیتے ہیں جو سراسر غیر آئینی و غیر اخلاقی و غیر اسلامی ہے۔ پولیس ایک معتبر ادارہ ہے اسے معتبر ہی رہنا چاہئے۔ ہمارے سیاسی وزراء و مشیران کے بےجا اختیارات کی وجہ سے نظام درہم برہم کا شکار ہوکر رہ گیا ہے۔ دوسرا یہ کہ ہر شعبہ میں جتنے نجی ادارے ہیں انہیں روزگار کی مد میں کم از کم بیس سال تک پابند کیا جائے اور روزگار بڑھانےکیلئے موثر اقدامات کرنے کا پابند کیا جائے تاکہ ریاست کے بوجھ کی کمی میں نجی ادارے سودمند رہیں اور نفع کی صورت میں بونس کو لازم قرار دیا جائے کیونکہ نفع کا دینی و اخلاقی طور پر حصہ دار آجر اور مزدور دونوں ہوتے ہیں اسی طرح نقصان میں بھی۔ گزشتہ دو تین سالوں میں جس بہمانہ انداز میں نجی اداروں نے معاشی قتل کیا تھا ان بیروزگاروں کے روزگار کیلئے واپسی قانونی و ریاستی طور پر لازم کرائی جائے مثلاً اےآروائی نے جتنے ڈاؤن سائزنگ سے بیروزگار کیئے تھے انہیں واپس انکریمنٹس کیساتھ جاب پر رکھا جائے آپکے علم میں ہے کہ اے آر وائی نے ان دو تین سالوں میں بے پناہ منافع کمایا ہے جس سے ایک جانب اے آر وائی لاگونا تو دوسری جانب اے اسپورٹس چینل لاؤنچ کیا اسی طرح بحریہ اور گلشن معمار میں ہاؤسنگ اسکیم کے کئی پروجیکٹس جاری ہیں یہی صورت حال تمام چینلز کی بھی ہیں لیکن بہروپی رویہ اختیار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ملازمین کو دینے کیلئے رقم نہیں آئینِ پاکستان کے تحت ان تمام نجی اداروں اور شعبوں کو ڈی نیشنلائز کردینا چاہئے تب یہ سدھریں گے اورانسان بنیں گے۔جناب قمر جاوید باجوہ آپ کی مداخلت کے بغیر ملکی نظام بہتر نہیں ہوسکتا کیونکہ آپ ہی کہتے ہیں کہ پاک آرمی اور جمہوری حکومت ایک پیج پر ہیں مگر حقیقت کچھ مختلف ہے آئین کہتا ہے کہ حکومت فلاحی و بہبود پر مبنی ہو مگر یہاں عوام کا خون چوسا جارہا ہے آئین کہتا ہے کہ عام شہری کے حقوق مضبوط اور زیادہ ہوں مگر یہاں عام شہری معمولی معمولی کام کیلئے ذلیل و خوار اور رسوا ہوتا ہے۔ ریاستِ پاکستان میں اشرافیہ کے کتے، بلی، گھوڑے اور گدھے پاکستانی شہری سے کہیں زیادہ معتبر ہیں۔ یہ قوم سیاسی مافیا، نوکر شاہی مافیا، کاروباری مافیا، ادویاتی مافیا، معالجی مافیا، عدلی مافیا، تھانیداری مافیا، خبری مافیا، نشہئی مافیا، اسمگلنگ مافیا، علمی مافیا، نجی اداروں کی مافیا، سرکاری اداروں میں کالی بھیڑوں کی مافیا، رشوت خوروں کی مافیا گویا پورا ملک مافیا کے باریک باریک جال میں پھنس کر رہ گیا ہے اس ملک کی بقا و سلامتی ان مافیاؤں کے خاتمے سے مشروط ہے۔ اس ملک کا امن و سکون ان تمام مافیا کو ختم کرنے پر ہی ممکن ہوسکتا ہے۔ یہ تمام گزارشات آپ اور آپ کے رفقائے کار آرمی کموڈورز ہی حل کر سکتے ہیں کیونکہ ہماری سیاست اور سیاستدان کو پھوپھندی لگی ہوئی ہے اور جہاں پھوپھندی لگ جاتی ہے وہ اشیاء وہ مقام وہ جگہ وہ شخصیت وہ منصب سڑ جاتے ہیں اور ناکارہ بے سود ہوکر رہ جاتے ہیں۔ خدارا پاکستان اور پاکستانیوں کی بہتر زندگی کیلئے نہ صرف سوچیئے بلکہ عمل کرکے انکی معاشی زندگی میں استحکام پیدا کردیجئے۔ الله آپ کا حامی و ناظر رہے آمین ثما آمین۔۔ پاک آرمی زندہ باد۔ پاکستان پائندہ باد۔۔۔۔۔۔۔۔!!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں