ریسکیو ہیلپ لائن 1122 پر بڑھتی ہوئی غیر ضروری کالز کی روک تھام اور حکمت علمی بارے جائزہ اجلاس

0
549

ٹوبہ ٹیک سنگھ( )ڈپٹی کمشنر عمر جاوید نے کہاکہ ر یسکیو ہیلپ لائن 1122 پر آپ کی ایک فیک کال کسی شہری کی زندگی خطرے میں ڈال سکتی ہے لہذا شہریوں سے اپیل ہے کہ وہ ایمرجنسی کی صورت میں ہی ریسکیو کی ہیلپ لائن پر کال کریں ۔فیک کا ل کرنے کی صورت میںکسی دوسرے کی جان بھی جاسکتی ہے۔ یہ بات انہوں نے ریسکیو ہیلپ لائن 1122 پر بڑھتی ہوئی غیر ضروری کالز کی روک تھام اور حکمت علمی بارے جائزہ اجلاس کی صدرات کرتے ہوئے کہا ۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر میاں فراز منیرنے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کر رواں سال ہیلپ لائن 1122 پر 2 لاکھ 90ہزار کال موصول ہوئیں جن میں صرف 6ہزار ایمرجنسی کالز تھیں ۔انہوں نے مزید بتایا کہ2009 سے اب تک ہیلپ لائن 1122 پر 2ملین سے زائد کالز کی گئیں جن میں 1لاکھ 27 ایمرجنسی کی صورت میں کال کی گئیں تھیں۔ڈپٹی کمشنر عمر جاویدنے کہا کہ ر سکیو ہیلپ لائن 1122 پر بڑھتی ہوئی غیر ضروری کالز کی وجہ سے فیصلہ کیا گیا کہ آئند ہیلپ لائن 1122 پر رانگ کال کرنے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی پنجاب ایمرجنسی سروس ایکٹ 2006 کے مطابق ریسکیو ہیلپ لائن 1122 پر جھوٹی کال کرنے والے شخص کو 6 ماہ قید اور پچاس ہزار روپے تک جرمانہ بھی ہوسکتا ہے۔انکا مزید کہنا تھا کہ غیر ضروری کالز کی وجہ سے کنٹرول روم آپریٹرز پر اضافی بوجھ پڑتا ہے اور مستحق افراد کو ایمرجنسی کی صورت میں کنٹرول روم سے رابطہ کرنے میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ڈپٹی کمشنر عمر جاوید نے شہریوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ریسکیو 1122ہمہ وقت آپ کی مدد کے لیے تیارہے کسی بھی ایمرجنسی میں شہری یسکیو ہیلپ لائن 1122پر کال کریںآپ کی ایک فیک کال سے کسی بھی شخص کی جان جا سکتی ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں