ڈاکٹر تصدق حیسن ایڈووکیٹ کالم کہکشائوں سےپاکستانی بھیا تم کہاں کھڑے ہو

0
112

پاکستانی بھیا ! تم کہاں کھڑے ہو ۔۔۔؟
کہکشائوں سے
ڈاکٹر تصدق حسین ایڈووکیٹ

مجھے یاد ہے دو سال قبل لائن آف کنٹرول کے چڑھوئی سیکٹر علاقے کیری سے آزاد کشمیر کے ہزاروں فرزندوں نے کنٹرول لائن کو روندنے کی پوری کوشش کی اور اس کوشش میں 4نوجوان لائن آف کنٹرول کو عبور کر کے مقبوضہ کشمیر میں داخل ہو گئے اور انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں گرم جوشی سے آزاد کشمیر کا جھنڈا بھی لہرا دیا۔شرکاء نے بھارتی فوج کے مورچوں کے سامنے نماز باجماعت ادا کی اور اسی دوران بھارتی فوج میں فائرنگ سے ایک جوان زخمی ہو گیا تو اسے ساتھی اٹھا کر واپس آزاد کشمیر آ گئے ۔

ضلع کوٹلی کے علاقے چڑھوئی سے لائن آف کنٹرول کو توڑنے کا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے ڈھائے والے بے پناہ مظالم کی داستانیں سن سن کر اب لاکھوں آزاد کشمیریوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے ۔

آزاد کشمیر کے جوان اب کچھ کرنا چاہتے ہیں ۔آخر کب تک ہاتھوں کی زنجیر بناکر ،جلسے ،جلوس ،مظاہروں میں بھارت کے خلاف نعرے لگا لگا کر ،سائرن بجا کر ،خاموش رہ کر ،سڑکیں بلاک کر کے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرتے رہیں گے ؟مقبوضہ کشمیر کی مظلوم مائیں ،بہنیں ، بیٹیاں ہمیں مدد کیلئے پکار رہی ہیں اور جواب میں ہم صرف گلے پھاڑ پھاڑ کر نعرے لگا رہے ہیں ،نغمے گا رہے ہیں ،بھاری بجٹ سے جلسے جلوس اور تقاریب کر رہے ہیں جس میں صرف نعرے ،خاموشی اور سائرن بجا کر وقت پورا کرتے ہیں ۔اور پھر گلے پھاڑ پھاڑ کر نعروں کی گونج میں کہنے کی کوشش کرتے ہیں کہ گھبرانا مت ،” ہم تمہارے ساتھ کھڑے ہیں ” ۔وہ سر پیٹ کر پوچھتی ہیں کہ بھیا ! تم ہمیں نظر کیوں نہیں آ رہے ؟یہاں پر بھارتی درندے دندناتے ہوئے ہم پر گولیاں برساتے ہیں ،آنسو گیس کے شیل پھینکتے ہیں ،ہماری آنکھوں کو پیلٹ گنوں سے چھین لیتے ہیں ۔بھیا !تم کدھر کھڑے ہو ؟ایدھر دیکھو ۔۔۔ہمارے معصوم بچوں کو تڑپا تڑپا کر مارا جا رہا ہے ،ہماری مائوں کے سروں سے دوپٹے چھینے جا رہے ہیں ،ان کے سروں کے تاج مارے جا رہے ہیں ،ہمارے بوڑھوں کو سڑکوں پر گھسیٹا جا رہا ہے ،ہمارے بچے بھوک سے بلک رہے ہیں ،ہمارے مریض ڈاکٹرز کی عدم دستیابی اور دوائیوں کے بغیر سک سک کر مر رہے ہیں ۔پاکستانی بھیا ! تم کدھر کھڑے ہو اب تک نظر کیوں نہیں آ رہے ؟بھارتی فوج کے درندے رات کی تاریکی میں گھروں کے دروازے توڑ کر ،دیواریں پھلانگ کر گھروں میں داخل ہوتے ہیں عورتوں ،بچے ،بوڑھوں کی تمیز کئے بغیر سب کو ایک دوسرے کے سامنے درندگی کا نشانہ بناتی ہے اور پھر گاڑیوں میں ڈال کر ٹارچر سیلوں کے رزق کی زینت بناتے ہیں ۔

پاکستانی بھیا ! اگر تم واقعی ہمارے ساتھ کھڑے ہو تو تم نے دیکھا تو ہو گا کہ بدنام زمانہ عالمی دہشت گرد نریندرمودی کئی عشروں سے کرفیو لگا رکھا ہے ،ہمارے پاس راشن ختم ہو چکا ہے ،اشیاء خوردونوش کی قلت ہو چکی ہے ۔ہمارے بچے بھوک سے مر رہے ہیں ۔شیر خوار بچے غذائی قلت کے باعث موت کے منہ میں جا رہے ہیں ۔ہم پاکستانی بھیا !ہم مقبوضہ کشمیری بہنیں کدھر جائیں یہاں ہر طرف ہندو کرفیو لگا ہے ،یہاں تو ہندو دہشت گردی ہے ،یہاں تو ہندو دہشت پسندی کی آگ ہے ،یہاں تو بھارتی فوج کی سنگینیں ہیں ،بھارتی فوج کی درندگی ہے ،کئی مہنے گزر گئے یہاں دکانیں ،کاروباری مراکز بند ہیں ۔چوک چوراہے ویران ہیں ہر طرف بھارتی فوج کے درندے بندوق لئے گشت پر ہیں ۔میرے پاکستانی بھیا !سلانٹیاں ،ٹافیاں ،کرکرے ،چاکلیٹ نہ سہی کم از کم ہمارے بھوک سے بلکتے بچوں کو دودھ کی چند بوندیں ہی لا دو ۔۔۔!اللہ کی قسم بھیا ۔۔۔! ہم مقبوضہ کشمیر کی بہنیں ،بیٹیاں ہماری بوڑھی مائیں چند دن اور بھوک پیاس برداشت کر لیں گی مگر ہمارے شیر خوار بچے اور ننھے پھول برداشت نہیں کرسکتے یہ مرجھاتے جارہے ہیں۔

پاکستانی بھیا ! ہم کشمیری بہنیں ،بیٹیاں ،مائیں نہیں آپ سے کہتی کہ آپ ہمارے لئے لڑو ،مت لڑو ،دہلی کے بھانڈ ،مراثیوں کو کراچی ،لاہور میں بھرپور پروٹوکول دو ،دونوں اطراف کے فنکاروں کوآپس میں مکس کرو ،امن کی آشا میں سکون سے جیو ،ہم جو ابھی زندہ ہیں “پاکستان “سے محبت ہم نے کسی دبائو کے تحت نہیں بلکہ اپنی مرضی سے کی ہے کیونکہ ہمارا دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتا ہے ۔پاکستان ہماری چاہت ، ہمارا عشق ہے ۔آزادی ہمارا حق ہے اور ہم اپنے بچے بھارت فوج سے شہید کروا کر ،اپنے پیاروں کے جنازے اٹھا کر بھی “آزادی ” کے جنون سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

پاکستانی بھیا !جہاں تم کھڑے ہو وہیں کھڑے رہنا وگرنہ جنگ چھڑنے کے خدشات لاحق رہیں گے۔ہم سری نگر سمیت مقبوضہ کشمیر کی بہنیں ،بیٹیاں ،مائیں نہیں چاہتیں کہ ہمارے پاکستانی جوانوں ،بھائیوں کا خون بہے ۔ہمارے مقبوضہ کشمیر والے بھائی بیٹے ابھی زندہ ہیں اور ہم بہنوں ،بیٹیوں مائوں کو امید ہے کہ اب وہ “سیکولر مذہبی “اس پار اور اس پار کے چکروں سے باہر نکل کر ہماری آزادی کے خواب کو ہر قیمت پر پورا کرنے میں ہمارے مدد گار ثابت ہوں گے ۔

پاکستانی بھیا !خدا تمہارے معصوم بچوں کی زندگیاں سلامت رکھے ،تمہاری ماں ،بہن ،بیٹیوں کو کبھی گرم ہوا بھی نہ چھو کر گزرے ،تمہارے مریضوں ،تمہارے بوڑھوں کو کبھی زندگی میں بھارتی سنگینوں کا ذائقہ نہ چکھنا پڑے،ہم مقبوضہ کشمیر کی شہزادیاں اپنے خوابوں میں آزادی کے دیئے روشن کر چکی ہیں۔اب خون کے سمندر بھی بہہ جائیں ،لاشوں کے انبار لگ جائیں ،جیلیں اور ٹارچر سیل انسانوں سے بھر جائیں ہم اپنے حوصلوں سے شدت پسندوں کے خون آلود منہ سے آزادی چھین کر حاصل کریں گے ۔

پاکستانی بھیا !اگر ہم شہید ہو گئیں ،ہمارے جوان ،بچے اور بوڑھے بھی شہید ہو گئے تو ایک دفعہ سری نگر ضرور آنا وہاں ڈل جھیل اپنی بھرپور رعنائیوں سے تمہاری راہ کی منتظر ہو گی ۔آخر 1947 سے لے کر آج تک تم دہلی یاترا کیلئے بھی جاتے ہی رہے ہو ۔تمہارے ادیب ،تمہارے دانشور ،تمہارے اداکار و گلوکار بھارت کی محبت کے گن گاتے گاتے تھک گئے ۔انہوں نے کبھی یہ تک سوچا یہ وہی پلید ہندو ہے جس نے 1947میں مسلمان بیٹیوں کو زبردستی اغواء کرکے زبردستی مذہب تبدیل کرکے ان سے شادیاں رچائی تھیں ۔

پاکستانی بھیا ! آج پھر وہی ایک معصومہ سا سوال تم کدھر کھڑے ہو ۔۔۔؟

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں